نئی دہلی20دسمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی ترنمول کانگریس کے بہت سارے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں ، لہٰذابی جے پی نے مغربی بنگال میں اپنے قدم جمانے کےلئے ابھی سے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔دوسری طرف کانگریس کی تیاری اس وقت نسبتاََ سْست دکھائی دے رہی ہے اور بائیں بازوکی جماعتوں کے ساتھ اس کے اتحاد کی تصویر اب تک واضح نہیں ہوسکی ہے۔ البتہ ان نکات پر مغربی بنگال کے کانگریس انچارج جیتن پرساد کا کہنا ہے کہ بائیں بازوکی جماعتوں کے ساتھ کانگریس مشترکہ طور پر میدان میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومت کے خلاف تحریکیں چل رہی ہیں۔ ریاستی کانگریس کمیٹی کے بیشترافرادکاخیال ہے کہ ہمیں بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرناچاہیے۔ ریاستی اکائی کے قائدین نے کانگریس صدرکو اس فیصلے کا اختیار دیا ہے۔ اس کا فیصلہ بہت جلد کیا جائے گا۔
جتین کے مطابق کانگریس پارٹی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔پارٹی کی تمام تنظیمیں اور ریاستی اکائی پوری طاقت کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔ آنے والے وقت میں بھرپور انتخابی مہم چلائی جائے گی۔ نتائج حیرت انگیز ہوں گے اورہماری کارکردگی بہت اچھی ہوگی۔انھوں نے کہا کہ بی جے پی اورترنمول کانگریس ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ انہوں نے ترنمول اور بی جے پی کے تعلق سے بتایا کہ یا پارٹیاں دوسری پارٹیوں کو توڑنے میں مہارت رکھتی ہیں اور وہ یہ کام طاقت اور پیسہ کا غلط استعمال کرکے کرتے ہیں۔ ترنمول کانگریس نے پہلے کانگریس کے لوگوں کو توڑا اور آج بی جے پی انہیں توڑ رہی ہے۔ عوام اور بنگال کا اس سے کوئی لینادینانہیں ہے۔
جتین نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں مغربی بنگال کے عوام نے بی جے پی کو زبردست حمایت دی تھی اور اب ریاست کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ریاست کو مرکزی حکومت سے کیا ملا؟ میں نے وہاں دیکھاہے کہ بی جے پی کا ارادہ بنگال کی تہذیب و تمدن کو توڑنا اور گجرات ماڈل کو نافذ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مغربی بنگال میں رویندر ناتھ ٹیگورکی توہین کی جارہی ہے۔ اس سے عوام کو تکلیف ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ عوام نے انہیں (اویسی کو) پہچان لیا ہے کہ وہ کچھ جماعتوں کے کہنے پر کام کرتے ہیں اور ایک جماعت کوفائدہ پہونچانا چاہتے ہیں۔ ان کومغربی بنگال میں پوری طرح سے بے نقاب کردیا جائے گا۔